نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

امریکہ سے ایسے تعلقات نہیں چاہتے کہ وہ پیسے دے اور کام کرائے،عمران خان


 اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک /آن لائن) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان کو غیرملکی فوج کے ذریعے کنٹرول نہیں کیاجاسکتا،طالبان عالمی سطح پر خود کو تسلیم کرانا چاہتے ہیں۔ امریکہ سے ایسے تعلقات نہیں چاہتے کہ وہ پیسے دے اور کام کرائے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عدم استحکام کے نتیجے میں افغانستان سے پھر دہشت گردی کا خطرہ جنم لے گا، افغانستان کیصورتحال پریشان کن ہے، افغانستان کو بھی دہشت گردی کا سامنا ہوسکتا ہے عالمی برادری افغانستان کی مدد کرئے،افغانستان کو غیر ملکی فوج کے ذریعے کنٹرول نہیں کیا جا سکتا، موجودہ حالات میں کوئی پیشگوئی نہیں کی جاسکتی کہ وہاں کیا ہونیوالا ہے، افغانستان کی خواتین بہت بہادر اور مضبوط ہیں، وقت دیا جائے وہ اپنے حقوق حاصل کر لیں گی۔ امریکی ٹی وی کو انٹر ویو دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال پریشان کن اور وہ اس وقت ایک تاریخی موڑ پر ہے، اگر وہاں 40سال بعد امن قائم ہوتا ہے اور طالبان پورے افغانستان پر کنٹرول کے بعد ایک جامع حکومت کے قیام کے لیے کام کرتے ہیں اور تمام دھڑوں کو ملاتے ہیں تو افغانستان میں 40سال بعد امن ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ عمل ناکامی سے دوچار ہوتا ہے جس کے بارے میں ہمیں بہت زیادہ خدشات بھی لاحق ہیں، تو اس سے افرا تفری مچے گی سب سے بڑا انسانی بحران پیدا ہو گا، مہاجرین کا مسئلہ ہو گا، افغانستان غیرمستحکم ہو گا۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے افغانستان میں آنے کا مقصد دہشت گردی اور عالمی دہشت گردوں سے لڑنا تھا لہٰذا غیرمستحکم افغانستان، مہاجرین کا بحران کے نتیجے میں افغانستان سے پھر دہشت گردی کا خطرہ جنم لے سکتا ہے۔عمران خان نے کہا کہ ہم میں سے کوئی بھی یہ پیش گوئی نہیں کر سکتا کہ یہاں سے افغانستان کی صورتحال کیا نکلے گی، ہم صرف امید اور دعا کر سکتے ہیں کہ وہاں 40سال بعد امن قائم ہو، طالبان نے کہا کہ وہ ایک جامع حکومت چاہتے ہیں، وہ اپنے خیالات کے مطابق خواتین کو حقوق دینا چاہتے ہیں، وہ انسانی حقوق کی فراہمی چاہتے ہیں، انہوں نے عام معافی کا اعلان کیا ہے تو یہ سب چیزیں اس بات کا عندیہ دیتی ہیں کہ وہ چاہتے ہیں کہ عالمی برادری انہیں تسلیم کرے۔ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کو باہر سے بیٹھ کر کنٹرول نہیں کیا جا سکتا، ان کی ایک تاریخ ہے، افغانستان میں کسی بھی کٹھ پتلی حکومت کو عوام نے سپورٹ نہیں کیا لہٰذا یہاں بیٹھ کر یہ سوچنا کہ ہم انہیں کنٹرول کر سکتے ہیں، اس کے بجائے ہمیں ان کی مدد کرنی چاہیے کیونکہ افغانستان کی موجودہ حکومت یہ محسوس کرتی ہے کہ عالمی معاونت اور امداد کے بغیر وہ اس بحران کو نہیں روک سکیں گے۔افغان عوام نے 20 سال میں بہت قربانیاں دی ہیں۔ پاکستان افغانستان میں امن کا خواہشمند ہے، عالمی برادری افغانستان کی مد د کرئے کیونکہ خطے میں امن و استحکام افغانستان میں امن سے منسلک ہے دنیا کو انسانی حقوق پر افغانستان کو وقت دینا چاہیے افغانستان میں عالمی برادری نے مد دنہ کی تو انتشار کا خدشہ ہے افغانستان میں افراتفری اور پناہ گزینوں کے مسائل کا بھی خدشہ ہے۔ پاک امریکا تعلقات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان سے عدم اعتماد کی وجہ زمینی حقائق سے امریکا کی قطعی لا علمی ہے افغانستان میں طالبان کے آنے کے بعد سے امریکی صدر سے بات نہیں ہوئی امریکی صدر جوبائیڈن نے فون نہیں کیا وہ مصروف شخصیت ہیں اگر میں نائن الیون کے وقت وزیراعظم ہوتا تو افغانستان پر امریکی حملے کی اجازت نہیں دیتا، ہم امریکا کے ساتھ نارمل تعلقات چاہتے ہیں امریکا نے کبھی نہیں سمجھا کہ حقانی نیٹ ورک کیا ہے حقانی قبائل افغانستان میں رہتے آئے ہیں حقانی مجاہد تھے انھوں نے سوویت یونین کے خلاف جہاد کیا انٹیلی جنس ایجنسیوں کا کام ہے انکے مختلف گروپوں سے روابط ہو ںجیسے سی آئی اے کے بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ 9/11 کے بعد امریکا کا اتحادی بننے کی وجہ سے پاکستان نے بہت کچھ بھگتا ہے، ایک وقت تھا کہ 50 شدت پسند گروپ پاکستان پر حملہ کررہے تھے، 80 کی دہائی میں پاکستان نے سوویت یونین کے خلاف امریکا کا ساتھ دیا، ہم نے مجاہدین کو تربیت دی تاکہ وہ افغانستان میں جہاد کر سکیں ان میں مجاہدین میں القاعدہ اور طالبان شامل تھے اور اس وقت یہ ایک مقدس کام تصور کیا جاتا تھا۔ 9/11 کے بعد امریکا کو افغانستان میں ہماری ضرورت تھی، جیارج بش نے پاکستان سے مدد طلب کی اور اس وقت کہا تھا کہ ہم پاکستان کو دوبارہ تنہا نہیں چھوڑیں گے، پاکستان امریکا کی جنگ کا حصہ بن گیا، اگر میں وزیر اعظم ہوتا تو میں کبھی ایسا نہ کرتا۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ڈالر کی اونچی پرواز کو بریک لگ گئی! انٹر بینک میں کتنا سستا ہوگیا؟ جانیئے

 اسلام آباد(نیوز ڈیسک) انٹر بینک میں ڈالر 12 پیسے سستا ہوگیا، انٹر بینک میں ڈالر 168.52 روپے سے کم ہوکر 168.40 روپے پر آگیا ۔ تفصیلات کے مطابق کاروباری ہفتے کے تیسر ے روز کاروبار کے آغاز پر ڈالر کی قیمت میں کمی ریکارڈکی گئی ہے۔ فاریکس ڈیلرز کے مطابق انٹر بینک میں ڈالر 12پیسے سستاہونےکے بعد168.40روپے پر آگیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز کاروبار کے اختتام پر ڈالر 168روپے 52پیسے پر بند ہوا تھا۔

پاکستان بین الاقوامی جوہری توانائی کے بورڈ آف گورنرز کا رکن منتخب ہو گیا

 اسلام آبا د(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان دو سال کے لیے بین الاقوامی جوہری توانائی کے بورڈ آف گورنرز کا رکن منتخب ہو گیا ۔ ترکی اردو کی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کا اجلاس آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں ہوا ، جس میں پاکستان کو آئندہ دو سال2023-اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کا ممبر منتخب کر لیا گیا۔اجلاس میں پاکستان کے نیوکلیئر اثاثوں کی بہترین حفاظت کو سراہا گیا۔ تک کیلئے آئی

اگر رضوان اور مجھ میں سے کسی نے اوپنگ نہ کی تو دوسرا کونسا کھلاڑی اوپنگ کرے گا، بابراعظم نے بتا دیا

  اگر رضوان اور مجھ میں سے کسی نے اوپنگ نہ کی تو دوسرا کھلاڑی کون ہوگا، بابراعظم نے بتا دیا تمام ٹیمیں ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کی فائنل تیاریوں میں مصروف ہیں ٹیموں کی طرف سے تقریباً تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں. تمام ٹیمیں ایک دوسرے کو مات دینے کے لیے نئے نئے گر ڈھونڈھ رہی ہیں. سب کے ساتھ ساتھ پاکستان بھی اپنے بولروں اور بلے بازوں کو نئے نئے پینترے سکھا رہا ہے. پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان اور سپرسٹار اور سپر سٹار کھلاڑی بابراعظم نے گزشتہ روز بتایا کہ محمد رضوان اور وہ خود ورلڈکپ کے میچز مین اوپنگ کریں گے۔ اگر کسی وجہ سے انھیں اپنا پلین تبدیل کرنا پڑ جاتا ہے تو پھر بابراعظم کا کہنا تھا کہ ہم فخرزمان کی طرف دیکھ سکتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ اگر ہم دونوں میں سے کوئی کھلاڑی اگلے نمبر پر جاتا ہے تو پھر فخرزمان اوپنگ کریں گے۔ انھوں کہا کہ ہم مختلف پلین بنا رہے ہیں جن میں کھلاڑیوں کے نمبر اوپر نیچے ہو سکتے ہین ۔ ہم پلین کے مطابق دیکھیں گے کہ فخرزمان کو کس نمبر پر استعمال کرنا ہے ۔